ناروے میں غیر شادی شدہ باپ اور شریک مائیں فعالانہ شرح داری یا شریک مادری کو تسلیم کرنا لازمی ہے۔ یہ ایک اہم قانونی فرض ہے اور پورے ملک میں لاگو ہوتا ہے بیک وقت۔ اگر والدین بچے کی پیدائش کے وقت شادی شدہ ہوں تو شوہر خودکار طور پر باپ کے طور پر تسلیم ہوتا ہے رسمی طور پر۔ غیر شادی شدہ جوڑوں کے لیے کوئی خودکاری نہیں ہے اور فعالانہ اقدام ضروری ہے۔ یہ قانون تمام غیر شادی شدہ والدین پر بغیر کسی استثنیٰ کے لاگو ہوتا ہے۔

کس کو شرح داری تسلیم کرنی چاہیے؟

تمام غیر شادی شدہ باپ کو فعالانہ شرح داری تسلیم کرنی چاہیے۔ یہ ایک قانونی حق اور ذمہ داری ہے بیک وقت۔ اس کام کو انجام دینے کے متعدد طریقے ہیں جو سادہ اور دسترس کے قریب ہیں:

  • ہسپتال میں پیدائش کے وقت (تیز ترین اور آسان ترین طریقہ سب کے لیے)
  • skatteetaten.no پر ڈیجیٹلی (BankID کے ساتھ بہتر تحفظ کے لیے)
  • Statsforvalteren میں (اگر تنازعہ یا عدم یقین ہو شکوک و شبہات کی صورت میں)

2020 سے: ہم آباد والدین کو شرح داری کی تسدیق کے بعد خودکار طور پر مشترک والدینی ذمہ داری ملتی ہے جو ایک اہم تبدیلی ہے۔

والدینی ذمہ داری (Foreldreansvar) کیا ہے؟

مشترک والدینی ذمہ داری کا مطلب ہے کہ دونوں والدین کو بچے کی پرورش، تعلیم، صحت اور اہم زندگی کے فیصلوں میں برابر حقوق اور فرائض ہیں۔ دونوں قانونی طور پر ذمہ دار ہیں اور اہم فیصلوں میں شریک ہونے چاہئیں۔

شریک مادری (Medmorskap)

2020 سے، شریک مائیں (ہم جنس ویاہ میں غیر حیاتیاتی ماں) ہسپتال میں یا Skatteetaten کے ذریعے ڈیجیٹلی شریک مادری تسلیم کر سکتی ہیں جو اہم تھا۔ اس سے شرح داری جیسے حقوق اور فرائض ملتے ہیں۔

اگر باپ تسلیم کرنے سے انکار کرے؟

Statsforvalteren کے ذریعے شرح داری کی تعین کے لیے درخواست دیں فوری۔ DNA کی جانچ کا حکم دیا جا سکتا ہے ثبوت کے لیے۔ بچوں کو اپنے حیاتیاتی باپ کو جاننے کا حق ہے بغیر شرط۔ Statsforvalteren DNA کی جانچ پر مجبور کر سکتا ہے ضرورت کی صورت میں۔ اگر باپ نامعلوم ہو: بچہ 18 سال کی عمر کے بعد خود درخواست دے سکتا ہے۔

علیحدگی کے بعد والدینی ذمہ داری کا کیا ہوتا ہے؟

مشترک والدینی ذمہ داری علیحدگی کے بعد جاری رہتی ہے - یہ خودکار طور پر تبدیل نہیں ہوتی۔ اکیلی ذمہ داری میں تبدیل کرنے کے لیے: عدالت یا Statsforvalteren میں درخواست دیں رسمی۔ بچہ ایک مقررہ پتے پر رہتا ہے، لیکن دونوں والدین والدینی ذمہ داری برقرار رکھتے ہیں۔

تارکین وطن خاندانوں کے لیے

ناروے کا قانون ناروے میں رہنے والے تمام بچوں پر لاگو ہوتا ہے بغیر استثنیٰ۔ اگر بچے کا باپ غیر ملک میں ہو تو ناروے کا Statsforvalteren شرح داری قائم کر سکتا ہے حتیٰ کہ اگر باپ دوسرے ملک میں ہو۔ بین الاقوامی معاہدات موجود ہیں ایسے معاملوں کے لیے۔ سرحد پار کے معاملوں پر ہدایت کے لیے Statsforvalteren سے رابطہ کریں۔

اضافی معلومات

ناروے میں، تمام غیر شادی شدہ باپ اور شریک ماؤں کو قانونی طور پر والدینیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ یہ عمل skatteetaten.no پر BankID یا MinID کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ۲۰۲۰ سے، ساتھ رہنے والے والدین خود بخود مشترکہ والدینی ذمہ داری حاصل کرتے ہیں۔ مشترکہ والدینی ذمہ داری کا مطلب ہے کہ تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، اور بچے کی زندگی کے اہم انتخابوں کے بارے میں مشترکہ طور پر فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ Statsforvalteren بین الاقوامی معاملات میں مدد کر سکتا ہے جہاں بچے کے والدین مختلف ممالک میں ہوں۔ DNA ٹیسٹ تنازعے کی صورت میں ضروری ہو سکتا ہے۔